چوآ سیدن شاہ کٹاس ٹول پلازہ کے قریب بھنگ کے جنگل، بند برساتی نکاسی آب کا نالہ اور صفائی کی ابتر صورتحال، وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی،ڈی سی چکوال ، اسسٹنٹ کمشنر چوآ سیدن شاہ ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
تحصیل منیجر صاف ستھرا پنجاب کو ذاتی واٹس ایپ پر اطلاع بھی بے اثر، شہریوں کا ذمہ داروں کے تعین، ہنگامی صفائی، نالے کی بحالی اور ممکنہ بارشوں سے قبل فوری عملی اقدامات کا مطالبہ
,چوآ سیدن شاہ کٹاس ٹول پلازہ کے قریب سڑک کے ساتھ واقع برساتی نکاسی آب کا نالہ سڑک کی تعمیر و مرمت کے دوران بند ہونے کے باوجود تاحال بحال نہ ہو سکا، جبکہ نالے اور اس کے اطراف میں بھنگ کے بلند و بالا پودے اور خودرو جھاڑیاں جنگل کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جس پر مقامی شہریوں نے "صاف ستھرا پنجاب” مہم کی مقامی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کا مظہر قرار دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق اس عوامی مسئلے سے "صاف ستھرا پنجاب” تحصیل چوآ سیدن شاہ کے تحصیل منیجر کو ان کے ذاتی واٹس ایپ پر تصاویر اور مکمل تفصیلات کے ساتھ باقاعدہ آگاہ کیا گیا، تاہم نہ کوئی تسلی بخش جواب موصول ہوا اور نہ ہی مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدام سامنے آیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ بارشوں سے قبل بند برساتی نکاسی آب کے نالے کی صفائی اور بحالی، نیز بھنگ اور دیگر خودرو جھاڑیوں کا خاتمہ یقینی نہ بنایا گیا تو برساتی پانی ملحقہ آبادی کا رخ کر سکتا ہے، جس سے رہائشی مکانات، بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب، پروگرام ڈائریکٹر "صاف ستھرا پنجاب”، کمشنر راولپنڈی ڈویژن، ڈپٹی کمشنر چکوال، اسسٹنٹ کمشنر چوآ سیدن شاہ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی چوآ سیدن شاہ، چیف آفیسر ضلع کونسل چکوال، ڈسٹرکٹ منیجر صاف ستھرا پنجاب ضلع چکوال اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، بھنگ اور دیگر خودرو جھاڑیوں کا مکمل خاتمہ، بند برساتی نکاسی آب کے نالے کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی اور بحالی یقینی بنائی جائے اور ممکنہ بارشوں سے قبل ملحقہ آبادی کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔یہ متن قومی اخباری معیار کے مطابق تحقیقی اور عوامی مسائل کی خبر کے انداز میں مرتب کیا گیا ہے، جس میں مؤقف مضبوط رکھا گیا ہے اور غیر ثابت شدہ الزامات سے گریز کیا گیا ہے
